جاوید چوہدری کا پروپیگنڈا اور بلوچستان کی حقیقت
![]() |
Javed Chaudhry’s propaganda targets Mahrang Baloch and Akhtar Mengal — Uncovering the truth behind the misinformation campaign |
بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا مگر سب سے زیادہ نظر انداز ہونے والا صوبہ ہے۔ یہاں کے مسائل کو اکثر مین سٹریم میڈیا میں غلط طریقے سے پیش کیا جاتا ہے یا پھر جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں، ایک مخصوص پروپیگنڈا مہم نے سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر زور پکڑا ہے، خاص طور پر معروف صحافی جاوید چوہدری کی طرف سے۔ اس مضمون میں ہم اسی پروپیگنڈے کا تجزیہ کریں گے اور حقائق کی بنیاد پر اصل صورتحال کو واضح کریں گے۔
پروپیگنڈا کی نوعیت
جاوید چوہدری اور ان جیسے دیگر صحافی بلوچستان کے مسائل کو اکثر ایک مخصوص نکتہ نظر سے پیش کرتے ہیں جو یا تو ریاستی بیانیے کو سپورٹ کرتا ہے یا پھر بلوچستان کے حقیقی مسائل کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے۔ اس پروپیگنڈا میں عام طور پر درج ذیل باتیں شامل ہوتی ہیں:
مظلوم بلوچ رہنماؤں کی کردار کشی۔
عوامی احتجاجات کو دہشت گردی یا ملک دشمنی کے طور پر دکھانا۔
بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار کو نظر انداز کرنا۔
بلوچ عوام کی حقیقی شکایات کو چھوٹا کر کے دکھانا۔
جاوید چوہدری، ماہ رنگ بلوچ اور اختر مینگل کے خلاف پروپیگنڈ
جاوید چوہدری کی پروپیگنڈا مہم میں خاص طور پر ماہ رنگ بلوچ اور اختر مینگل کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ دو نمایاں شخصیات بلوچستان کی محرومیوں اور حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ جاوید چوہدری اور ان کے ساتھی میڈیا پرسنز بار بار ماہ رنگ بلوچ اور اختر مینگل کی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں، تاکہ ان کی تحریک کو کمزور کیا جا سکے اور عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔
حالیہ دنوں میں، جاوید چوہدری اور ان کے ساتھیوں نے ایک ویڈیو انٹرویو کے ذریعے اختر مینگل اور ماہ رنگ بلوچ کو نشانہ بنایا۔ اس ویڈیو میں دونوں رہنماؤں کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوئے انہیں غیر حقیقی طور پر متنازع بنایا گیا۔ اس طرح کے پروپیگنڈے کا مقصد بلوچ حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو بدنام کرنا اور ان کے موقف کو کمزور کرنا ہے۔
ماہ رنگ بلوچ جو کہ بلوچ حقوق کے لیے ایک مضبوط آواز ہیں، اور اختر مینگل جو سیاسی سطح پر بلوچ عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، دونوں کو مسلسل پروپیگنڈا کا سامنا ہے۔ جاوید چوہدری جیسے صحافی ان کی باتوں کو جان بوجھ کر غلط طور پر پیش کرتے ہیں تاکہ انہیں ملک دشمن یا غیر حقیقی دکھایا جا سکے۔
حقائق کیا ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کے عوام کو دہائیوں سے ریاستی ناانصافیوں، معاشی محرومی اور سیاسی نظراندازی کا سامنا ہے۔ جاوید چوہدری کی طرف سے پیش کیا گیا بیانیہ زیادہ تر یک طرفہ اور گمراہ کن ہوتا ہے۔ حقائق درج ذیل ہیں:
معاشی ناانصافی: بلوچستان پاکستان کے وسائل کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، لیکن یہاں کے عوام کو ان وسائل سے فائدہ نہیں پہنچتا۔
سماجی و سیاسی نظراندازی: بلوچ قوم کی آواز کو مین سٹریم میڈیا میں جان بوجھ کر دبایا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں: لاپتہ افراد کا مسئلہ اور جبری گمشدگیاں ایک سنگین حقیقت ہیں جنہیں اکثر میڈیا میں نظرانداز کیا جاتا ہے۔
ماہ رنگ بلوچ: دہشت گردی کا سافٹ فیس اور مظلومیت کا ڈھونگ
BLA سے تعلق کا دعویٰ –بغیر کسی ثبوت کے کسی کو دہشت گرد تنظیم کا "سافٹ فیس" کہنا ایک سنگین الزام ہے۔ اگر جاوید چوہدری کے پاس ایسے شواہد ہیں، تو انہیں عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔
جعفر ایکسپریس حملے پر ردعمل – اگر ماہ رنگ بلوچ نے واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حملے کی حامی ہیں؟ اس منطق سے، ہزاروں دوسرے لوگ بھی مورد الزام ٹھہریں گے جنہوں نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا۔
سرکاری ملازمت اور حکومت مخالف مؤقف – انسانی حقوق کے کارکن حکومت میں کام کرتے ہوئے بھی ریاستی پالیسیوں پر تنقید کر سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں کئی مثالیں موجود ہیں جہاں لوگ سرکاری ملازمت میں رہ کر بھی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں
نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا الزام – اگر کوئی فرد اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے اور طلبہ کو سیاسی شعور دیتا ہے، تو اسے "دہشت گردی کی بھرتی" کہنا غیر منطقی ہے۔ پاکستان کے آئین کے مطابق اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے، جب تک کہ وہ پرامن ہو۔
بین الاقوامی میڈیا سے تعلقات – بی بی سی یا دیگر بین الاقوامی میڈیا ادارے اگر کسی کو انٹرویو دیتے ہیں، تو یہ خود ان اداروں کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اس سے کسی پر بھارتی ایجنٹ ہونے کا الزام لگانا ایک غیر منطقی دلیل ہے۔
1. BLA سے تعلق کا الزام
جعفر ایکسپریس حملے پر ردعمل
یہ دعویٰ کہ ماہ رنگ بلوچ نے اس واقعے پر کوئی ردعمل نہیں دیا، غیر منطقی ہے۔ بہت سے دیگر سیاستدانوں، سماجی کارکنوں اور عوامی شخصیات نے بھی اس واقعے پر کوئی بیان نہیں دیا، تو کیا وہ سب دہشت گردوں کے حمایتی ہیں؟ یہ دلیل نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ محض ایک بیانیہ بنانے کی کوشش ہے۔ مزید برآں، اگر ماہ رنگ بلوچ نے کسی اور موقع پر دہشت گردی کی مذمت کی ہے، تو ان بیانات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے
3. سرکاری ملازمت اور حکومت پر تنقید
ماہ رنگ بلوچ پر الزام ہے کہ وہ ایک سرکاری ملازم ہوتے ہوئے بھی حکومت کے خلاف بولتی ہیں۔ مگر پوری دنیا میں انسانی حقوق کے کارکن سرکاری ملازمت میں ہوتے ہوئے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ پاکستان کے آئین میں بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا حق دیا گیا ہے، جب تک کہ وہ پرامن ہو۔ حکومت پر تنقید کسی بھی جمہوری معاشرے کا بنیادی حق ہے، اور اس کا مطلب ہرگز ملک دشمنی نہیں ہوتا-
4. مالی معاملات اور طرز زندگی
مضمون میں ماہ رنگ بلوچ کے مالی ذرائع پر سوال اٹھایا گیا ہے، لیکن کسی بھی مستند شواہد کے بغیر۔ اگر ان کے اثاثے واقعی غیر قانونی ہیں، تو کیا کوئی سرکاری انکوائری یا تحقیقات ہوئی ہیں؟ اگر نہیں، تو یہ محض الزام تراشی ہے۔ ہر شہری کا یہ حق ہے کہ وہ شفاف طریقے سے اپنی مالی معلومات فراہم کرے، لیکن بغیر کسی ثبوت کے کسی کو بدنام کرنا غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے
5. نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا الزام
کسی بھی شخص کا اپنی رائے کا اظہار کرنا اور نوجوانوں کو سیاسی شعور دینا دہشت گردی کی بھرتی نہیں کہلا سکتا۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے کارکن حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں اور نوجوانوں میں شعور بیدار کرتے ہیں۔ اس عمل کو "ریکرُوٹمنٹ" کہنا ایک گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔ نوجوانوں کو حقیقت اور پروپیگنڈے میں فرق سکھانا ضروری ہے تاکہ وہ خود سے فیصلہ کر سکیں کہ کونسی معلومات قابلِ بھروسہ ہیں
6. بین الاقوامی میڈیا سے تعلقات
ماہ رنگ بلوچ کے بی بی سی اور بھارتی میڈیا سے تعلقات کو مشکوک کہا جا رہا ہے۔ مگر کیا کسی پاکستانی سیاستدان یا حکومتی اہلکار کا کسی غیر ملکی میڈیا سے بات کرنا "غداری" سمجھا جاتا ہے؟ اگر نہیں، تو پھر ماہ رنگ بلوچ کے معاملے میں یہ پیمانہ کیوں بدلا جا رہا ہے؟ اگر بین الاقوامی میڈیا پاکستان کے دیگر مسائل پر بھی رپورٹنگ کرتا ہے، تو کیا وہ بھی کسی سازش کا حصہ ہیں
یہ مضمون بغیر کسی ثبوت کے الزامات پر مبنی ہے، جس کا مقصد اختلافِ رائے کو دبانا اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے والوں کو خاموش کرانا ہے۔ اگر واقعی ماہ رنگ بلوچ کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہیں، تو قانونی راستہ اپنایا جائے، نہ کہ میڈیا ٹرائل کے ذریعے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے۔ اختلافِ رائے کو دہشت گردی سے جوڑنا ناانصافی ہے اور اس سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوگا۔ ہر فرد کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرے، چاہے وہ کسی بھی نقطہ نظر کا حامل ہو-
Social Plugin