اطلاع عام
کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن چکا ہے، جہاں سرکاری سطح پر پٹرول کی قیمت 458 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، وہیں حیران کن طور پر ایرانی اسمگل شدہ پٹرول بھی تقریباً اسی قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔ عوامی حلقوں میں اس بات پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے کہ جب غیر قانونی طور پر آنے والا پٹرول بھی مہنگا فروخت ہو رہا ہے تو اس کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ، آئی جی بلوچستان اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے ایرانی اسمگل شدہ پٹرول کی قیمتوں اور اس کی غیر قانونی فروخت پر سخت کنٹرول کریں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر اس غیر قانونی کاروبار کو ریگولیٹ کیا جائے تو نہ صرف قیمتوں میں کمی ممکن ہے بلکہ عام شہری کو بھی ریلیف مل سکتا ہے۔
حکام بالا سے اپیل ہے کہ وہ زمینی حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے فوری اقدامات کریں تاکہ مہنگائی کے اس طوفان میں پسے ہوئے عوام کو کچھ سہارا مل سکے۔

0 تبصرے