ڈاکٹر مَہنور پر تیزاب حملے کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی

Ticker

8/recent/ticker-posts

ڈاکٹر مَہنور پر تیزاب حملے کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی

 "ڈاکٹر مَہنور پر تیزاب حملے کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی، ملزم کئی ماہ سے مبینہ طور پر ہراساں کرتا رہ تھا۔


Balochistan voi  news desk 

Acid attack civil hospital quettat

کوئٹہ میں تیزاب گردی کی شکار ڈاکٹر مَہنور ناصر کی حالت بہتر، علاج کراچی میں جاری

کراچی/کوئٹہ کے سرکاری اسپتال میں تیزاب حملے کا نشانہ بننے والی نوجوان ڈاکٹر مَہنور ناصر اس وقت کراچی کے آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت مستحکم ہے اور وہ بتدریج صحت یاب ہو رہی ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان کے وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ نے بتایا ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم، جس کی شناخت ہمایوں شاہ کے نام سے ہوئی ہے، گزشتہ کئی ماہ سے ڈاکٹر مَہنور کو ہراساں کر رہا تھا۔

وزیرِ صحت کے مطابق ملزم کے موبائل فون سے حاصل ہونے والے شواہد سے معلوم ہوا کہ وہ بار بار ڈاکٹر مَہنور سے ذاتی تعلق قائم کرنے کی کوشش کرتا رہا تھا۔

بخت محمد کاکڑ نے کہا، "ملزم ایک طویل عرصے سے ڈاکٹر مَہنور کو ہراساں کر رہا تھا، جس کی تصدیق اس کے موبائل فون کے ریکارڈ سے ہوئی ہے۔"

ڈاکٹر مَہنور ناصر، جو سینڈمن صوبائی اسپتال کوئٹہ میں جنرل سرجری کی پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ہیں، حملے کے بعد ابتدا میں کوئٹہ کے ایک نجی اسپتال منتقل کی گئیں۔ بعد ازاں اہلِ خانہ کی درخواست پر انہیں مزید بہتر علاج کے لیے کراچی منتقل کر دیا گیا۔

حکام کے مطابق بلوچستان حکومت ان کے علاج کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے جبکہ معالجین ان کی مکمل صحت یابی کے لیے پرامید ہیں۔

اسپتال ذرائع کے مطابق ڈاکٹر مَہنور کے جسم کا تقریباً 13 فیصد حصہ جھلس گیا تھا۔ تیزاب کے اثرات دونوں آنکھوں کے اطراف کے حصوں پر بھی پڑے، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ ان کی بینائی محفوظ ہے۔ اس کے علاوہ چہرے، پیٹ اور دائیں ہاتھ پر بھی جلن اور زخموں کے نشانات موجود ہیں۔

کراچی پہنچنے پر پلاسٹک سرجنز، ماہرینِ چشم اور دیگر اسپیشلسٹ ڈاکٹروں نے ان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔ انہیں اسپتال کے اسپیشل کیئر یونٹ میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ڈاکٹر مَہنور کے اہم اعضاء محفوظ ہیں اور ان کی جان کو فی الحال کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ اگرچہ دونوں آنکھوں کے قرنیے (Cornea) معمولی حد تک متاثر ہوئے ہیں، تاہم ان کی بینائی متاثر نہیں ہوئی۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آنکھوں کے ماہرین کی نگرانی میں علاج جاری رہے گا جبکہ پلاسٹک سرجنز اور دیگر ماہرین بھی علاج کے عمل میں شامل رہیں گے۔ طبی ٹیم کو امید ہے کہ ڈاکٹر مَہنور مکمل طور پر صحت یاب ہو جائیں گی۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے